اردوئے معلیٰ

Search

زمانوں کو مُنوّر کر رہا ہے

مری سرکار کا، روشن دیا ہے

 

رُخِ تاباں کی جگمگ کے مقابل

تجلی ہیچ، شرمندہ ضیاء ہے

 

مرے سینے میں، شمعِ عشق روشن

درِ سرکار تک، جو رہنما ہے

 

عقیدت سے میں اس کے ہاتھ چوموں

جو عاشق، جانبِ طیبہ چلا ہے

 

میں گھبراتا نہیں ہوں مشکلوں سے

مرا مولا علیؓ مشکل کشا ہے

 

کبھی روتی ہے چوبِ خشک منبر

کبھی مُٹھی میں کنکر بولتا ہے

 

برا ہے یا بھلا، جیسا ظفرؔ ہے

سگِ در، آپ کے در کا گدا ہے

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ