اردوئے معلیٰ

زمیں و آسماں روشن مکان و لا مکاں روشن

زمیں و آسماں روشن مکان و لا مکاں روشن

ظہورِ مصطفےٰ سے ہو گئے دونوں جہاں روشن

 

گئی جن راستوں سے تھی سواری کملی والے کی

انہی رستوں کا اب تک ہے غبار کارواں روشن

 

نصیبوں پر میں اپنے ناز جتنا بھی کروں کم ہے

ہر اک سینے میں ہوتا ہے تمہارا غم، کہاں روشن؟

 

ستاروں سے پرے کے بھی مناظر دیکھ لیتی ہیں

جن آنکھوں میں نبی کے پیار کی ہیں بجلیاں روشن

 

خدا سے آشنائی کا کسے معلوم تھا رستہ

وہ آئے تو ہوئے ہیں راستوں کے سب نشاں روشن

 

خدا نے بخش دی جب سے سعادت نعت گوئی کی

ہوئیں اس دن سے میرے دل کی ساری بستیاں روشن

 

مقدر کے اندھیرے آسؔ اس کا کیا بگاڑیں گے

ہے جس کے پاس یادِ مصطفےٰ کی کہکشاں روشن

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ