اردوئے معلیٰ

Search

زمیں کو ناز ہے اس جا جہاں ہے نقش پا تیرا

جدا ہے شان تیری اور جدا ہے مرتبہ تیرا

 

جہاں ملتی ہے سیرابی ہماری تشنہ کامی کو

جہاں جاری ہے چشمہ فیض کا صبح و مسا تیرا

 

تو ہی محبوب حق مطلوب حق مرغوب حق بھی ہے

تعارف پیش میں کیسے کروں صل علیٰ تیرا

 

منور ہے ترا نقش قدم عرش معلی تک

ابھی تک لمس کا حامی ہے وہ غار حرا تیرا

 

تری توصیف ہے مرقوم سب اوراق قرآں میں

کلام پاک میں ہے خود ثنا خواں کبریا تیرا

 

خدا کے ساتھ تیرا نام لیتا ہے سدا محشرؔ

بہت برتر ہے سب سے مرتبہ بعد خدا تیرا

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ