اردوئے معلیٰ

Search

زندگی اپنی اسی طور سنواری جائے

دل میں تصویر مدینے کی اتاری جائے

 

کہکشاں راہ میں یوں بچھتی چلی جاتی ہے

جانب عرش شہ دیں کی سواری جائے

 

اس قدر بھرتے ہیں دامن کہ اٹھائے نہ بنے

ان کے کوچے میں اگر کوئی بھکاری جائے

 

حسن ایسا ترے رب نے تجھے بخشا آقا

چاند سو بار ترے چہرے پہ واری جائے

 

جس طرف ان کے غلاموں کے قدم اٹھ جائیں

اس طرف قافلۂ رحمت باری جائے

 

دل میں بغض شہ کونین جو رکھ کر کی ہے

وہ عبادت ترے منھ پر ہی نہ ماری جائے

 

جب بڑھے گنبد خضریٰ کی طرف میرے قدم

دل مرا کرتا ہوا گریہ و زاری جائے

 

جس کے صدقے میں پلا کرتی ہے مخلوق تمام

اسی چوکھٹ پہ چلو جھولی پساری جائے

 

عشق آقا کے ہیں ہر شاخ پہ غنچے روشن

میرے گلزار سے کیوں باد بہاری جائے

 

جی نہ پاؤں گا اگر ہجر کی نوبت آئی

چھوڑ کر مجھ کو نہ اب نعت نگاری جائے

 

نور وہ بارگہ سرور کونین ہے بس

بات خالی نہ جہاں کوئی ہماری جائے

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ