اردوئے معلیٰ

Search

زندگی بھر سفر میں رہتے ہیں

پھر بھی ہم اپنے گھر میں رہتے ہیں

 

منزلیں ان کو ڈھونڈ لیتی ہیں

جو مسلسل سفر میں رہتے ہیں

 

کیوں ہمیں عمر بھر نہیں ملتے

وہ جو قلب و نظر میں رہتے ہیں

 

رات ان کو گراں نہیں ہوتی

جو امید سحر میں رہتے ہیں

 

وہ جو اک بار ہم سے بچھڑے تھے

جانے اب کس نگر میں رہتے ہیں

 

جن کو شاہِ نجف کی چاہ نہیں

وہ ہمیشہ بھنور میں رہتے ہیں

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ