زندگی بھر سفر میں رہتے ہیں

زندگی بھر سفر میں رہتے ہیں

پھر بھی ہم اپنے گھر میں رہتے ہیں

 

منزلیں ان کو ڈھونڈ لیتی ہیں

جو مسلسل سفر میں رہتے ہیں

 

کیوں ہمیں عمر بھر نہیں ملتے

وہ جو قلب و نظر میں رہتے ہیں

 

رات ان کو گراں نہیں ہوتی

جو امید سحر میں رہتے ہیں

 

وہ جو اک بار ہم سے بچھڑے تھے

جانے اب کس نگر میں رہتے ہیں

 

جن کو شاہِ نجف کی چاہ نہیں

وہ ہمیشہ بھنور میں رہتے ہیں

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ