زندگی تجھ سے عبارت ہے میری جاں لیکن

زندگی تم سے عبارت ہے میری جاں لیکن

پھر بھی حسرت ہے یہی ذکر تمھارا کر لیں

 

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email
لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے

متعلقہ اشاعتیں

اب یہ بھی نہیں ٹھیک کہ ہر درد مٹا دیں
جانے اس کی جدائی کیا ہو گی
نقطہ وروں نے ہم کوسمجھایاخاص بنو اور عام رہو
میری حسرت پہ طنز ہے کہ نہیں؟
دل کے دینے میں مجھے عذر نہیں بات یہ ہے
اب تک کوئی بھی تیر ترازو نہیں ہوا
‏پھول اس واسطے کھلتا ھے کہ تُو دیکھے اسے
عجب طرح کا ہے موسم کہ خاک اُڑتی ہے
بے بسی کہہ دیا تغافل کو
تیرے پیاروں کی اذیت کا سبب بنتے تھے