زُبان سے جو کہا لَا اِلٰہَ اِلَّا اللہ

زُبان سے جو کہا لَا اِلٰہَ اِلَّا اللہ

سُکونِ قلب مِلا لَا اِلٰہَ اِلَّا اللہ

 

ہر ایک دَرد اِسی سے ہُوا ہے دُور مِرا

ہر ایک غَم کی دَوا لَا اِلٰہَ اِلَّا اللہ

 

وجودِ باری کی معبودیت کا اعلاں بھی

جمالِ لُطف و عطا لَا اِلٰہَ اِلَّا اللہ

 

فقط مِرا ہی نہیں دو جہاں کی ہر شے کا

ہے وردِ صبح و مَسَا لَا اِلٰہَ اِلَّا اللہ

 

گُلاب دِل کے گُلستان میں مَہکنے لگے

کیا جو ذِکرِ خُدا لَا اِلٰہَ اِلَّا اللہ

 

تمام عُقدوں کا حل، امن، آشتی کی سَنَد

ہے رَاحتوں کی رِدا لَا اِلٰہَ اِلَّا اللہ

 

رضاؔ جو شاہِ مدینہ ا کے دَر کے نوکر ہیں

اُنہی نے دِل سے پڑھا لَا اِلٰہَ اِلَّا اللہ

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email
لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے

متعلقہ اشاعتیں

خدا کی ذات قائم اور دائم
خدا کا نام ہے قلب و دہن میں
طوافِ کعبہ کی خاطر پیاپے گھومنا اچھا
وجود اُس کا ہے مشک و گلاب سے ظاہر
درگزر کر مری خطا مولا
مانگا جو قطرہ بحرِ کرم نام کر دیا
رحمت کا اِک جہان ہے کوچہ حضور کا
اے والیء مدینہ بلوائیے مدینہ
نام بھی تیرا عقیدت سے لیے جاتا ہوں
جس دل میں نور عشق ہے ذات الہ کا