اردوئے معلیٰ

زیادہ کٹھن ہے ترکِ نظارہ کے کرب سے

اُس محوِ دید کو پسِ منظر سے دیکھنا

 

فی الحال میں زمین کو اُوپر سے دیکھ لوں

پھر تو ہے تا ابد اسے اندر سے دیکھنا

 

میں بھی افق پہ دید جماؤں گا دن ڈھلے

تم بھی زمیں کی سمت ، سمندر سے دیکھنا

 

وہ بے دِلی ہے آج ، کہ اپنی ہی دھڑکنیں

دِل چاہتا ہے دیدہِ خنجر سے دیکھنا

 

سنسان راستوں پہ دھرے انتظار کو

بالیں سے ، روزنوں سے ، کبھی در سے دیکھنا

 

آخر کو آ گیا ہے ، نکلنا وجود سے

یعنی کہ اپنے آپ کو باہر سے دیکھنا

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے۔۔۔

حالیہ اشاعتیں

اشتہارات

اشتہارات