اردوئے معلیٰ

زیست کا لمحۂ ُپر کیف ہے کعبے کا طواف

حاصلِ عمرِ رواں ہے ترے کو چے کا طواف

 

جسم کو تھام کے لے آیا ہُوں واپس، لیکن

دل کو کرنا تھا ابھی تیرے مدینے کا طواف

 

سب زمانوں کی بہاروں پہ ہے واجب واللہ

دشتِ طیبہ کے مہکتے ہوئے کانٹے کا طواف

 

رات تو بِیت گئی دید کے انعام کے ساتھ

صبح پھر کرتی رہی ایک ہی لمحے کا طواف

 

یہ تری نعت کا فیضانِ عطا ہے واللہ

شعر خود کرتے ہیں ہر صیغہ و لہجے کا طواف

 

پڑھتا رہتا ہوں دُعاؤں میں درود اور سلام

لب پہ رہتا ہے اِسی ایک وظیفے کا طواف

 

جان و دل، ہوش و خرد سب تھے برابر رقصاں

کیا عجب کیف میں مقصودؔ تھا جذبے کا طواف

 

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے۔۔۔

حالیہ اشاعتیں

اشتہارات

اشتہارات