اردوئے معلیٰ

سارا قرضِ ہنر چکا دیا ہے

لفظ کو راستہ بنادیا ہے

 

بے خیالی میں جس کو پایا تھا

ڈھونڈنے میں اسے گنوادیا ہے

 

احتیاطِ فصیل و در کیسی

جب کرایہ مکان کا دیا ہے

 

رک گئے ہیں جہاں سے روکا گیا

لگ گئے ہیں جہاں لگا دیا گیا

 

تم بخیلی سے کام لیتے ہو

رب نے ہم کو جو دل بڑا دیا ہے

 

رت بدلنے کی دیر تھی اظہرؔ

دھوپ نے چھاوں کا مزا دیا ہے

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے۔۔۔

حالیہ اشاعتیں

اشتہارات

اشتہارات