سب دیکھتی ، سُنتی ہے مناجات وہ دہلیز

سب دیکھتی ، سُنتی ہے مناجات وہ دہلیز

ہے بوسہ گہِ ارض و سماوات وہ دہلیز

 

الطاف فزوں رکھتی ہے ، انعام فراواں

مشتاقِ گدا ، قاسمِ خیرات وہ دہلیز

 

حاجت سے سوا ، عرضِ تمنا سے بھی پہلے

کرتی ہے بصد طَور عنایات وہ دہلیز

 

کیوں مدح گرِ غیر ہو سائل درِ شہ کا

صد شکر کہ ہے منبعِ نِعمات وہ دہلیز

 

سب جلوے اُسی کے ہیں ضیا بار حوالے

کونین میں ہے مطلعِ لمعات وہ دہلیز

 

کیا عرض و گزارش کروں احوالِ زبوں کی

خود جانتی ہے تلخئ حالات وہ دہلیز

 

ہم ظلم بہ جاں آئے شفاعت کے طلب جُو

ہے شافعِ کُل ، قبلۂ حاجات وہ دہلیز

 

خوابیدہ ، تغافل کی زمیں پر ہُوں مَیں ، لیکن

بیدار ہے میرے لیے دن رات وہ دہلیز

 

ہے مُہر بلب رہنا یہاں حاصلِ ایماں

خاموش ! کہ ہے واقفِ حالات وہ دہلیز

 

کُھلنی ہے کہاں حشر میں اب فردِ معاصی

مقصودؔ ، ہے جب محوِ مکافات وہ دہلیز

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ