سب کاروبار نقد و نظر چھوڑنا پڑا

سب کاروبار نقد و نظر چھوڑنا پڑا

بکِنے لگے قلم تو ہُنر چھوڑنا پڑا

 

قربانی مانگتی تھی ہر اک شاخ بے ثمر

بسنے نہ پائے تھے کہ شجر چھوڑنا پڑا

 

کرنا تھا جو سفر ہمیں ہم نے نہیں کیا

بچوں کو آج اس لئے گھر چھوڑنا پڑا

 

آ تو گئے ہو، سوچ لو جاؤ گے پھر کہاں

یہ شہر بد لحاظ اگر چھوڑنا پڑا

 

گھر سے چلا تھا بار ثقافت اٹھا کے میں

رستے میں تھوڑا تھوڑا مگر چھوڑنا پڑا

 

نفرت کے سانپ آ گئے گھر تک تو میں ظہیرؔ

اتنا ڈرا کہ خوف سفر چھوڑنا پڑا

 

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے

متعلقہ اشاعتیں

یہ چپ لبوں پہ جو ٹھہری ٹھہری نہیں لگے گی
ہجر کا رنج گھٹے ، ایسی دعا جانتا ہے ؟
محفل میں جو بھی ہے ، ان کا مقام ، جانتے ہیں
سوچا ہے یہ ہم نے تمہیں سوچا نہ کریں گے
نہ ملے تم، تو ملا کوئی تمہارے جیسا
نظریں چُرائیے، نہ ندامت اٹھائیے
بنا کے پھر مجھے تازہ خبر نہ جاؤ تم
کب سے لگی ہے اُس کی نشانی کتاب میں
میں اشکبار ہوں نا ممکنہ کی خواہش میں
چراغ سامنے والے مکان میں بھی نہ تھا

اشتہارات