اردوئے معلیٰ

سب کی وحشت کو خلاؤں میں لگایا ہوا ہے

سب کی وحشت کو خلاؤں میں لگایا ہوا ہے

دکھ نے میلہ سا ہواؤں میں لگایا ہوا ہے

 

لوگ پہچان لیا کرتے ہیں اکثر ، میں نے

تیری خوشبو کو قباؤں میں لگایا ہوا ہے

 

اس کے رستے پہ بچھا رکھی ہیں اپنی آنکھیں

اور سماعت کو فضاؤں میں لگایا ہوا ہے

 

دل ترے شہر کی رونق میں الجھ جاتا ہے

پوچھ مت کیسے یہ گاؤں میں لگایا ہوا ہے

 

ڈال کر دانے بلاتی ہوں انہیں آنگن میں

میں نے چڑیوں کو دعاؤں میں لگایا ہوا ہے

 

سوکھ جائے گا تمازت بھی اسے لازم ہے

آس کا پیڑ جو چھاؤں میں لگایا ہوا ہے

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ