اردوئے معلیٰ

Search

ستمگروں کے ستم کی اڑان کچھ کم ہے

ابھی زمین کے لیے آسمان کچھ کم ہے

 

جو اس خیال کو بھولے تو مارے جاؤ گے

کہ اپنی سمت قیامت کا دھیان کچھ کم ہے

 

ہمارے شہر میں خیر و عافیت ہے مگر

یہی کمی ہے کہ امن و امان کچھ کم ہے

 

بنا رہا ہے فلک بھی عذاب میرے لیے

تیری زمین پہ کیا امتحان کچھ کم ہے

 

ابھی شمار کے قابل زخم دل میرے

ابھی وہ دشمن جاں مہربان کچھ کم ہے

 

ادھر تو درد کا پیالہ چھلکنے والا ہے

مگر وہ کہتے ہیں یہ داستان کچھ کم ہے

 

ہوائے وقت ذرا پیرہن کی خیر منا

یہ مت سمجھو کہ پرندوں میں جان کچھ کم ہے

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ