اردوئے معلیٰ

Search

سجایا گلشنِ ہستی کو جن گلابوں نے

کیا ہے زرد مجھے ان کے سبز خوابوں نے

 

اٹھائی جا رہی ہیں انگلیاں بھی چاروں طرف

کئی سوال اٹھائے ترے جوابوں نے

 

تمھارے بعد بھی جاری ہیں امتحاں میرے

اکیلا چھوڑا نہیں عمر بھر عذابوں نے

 

اٹے ہوئے ہیں اسی دھول میں یہ شام و سحر

مجھے سفر میں رکھا ہے ترے سرابوں نے

 

میں چاہتا ہوں تری ذات میں اتر جاؤں

مگر پڑا ہوا ہوں جانے کن حجابوں میں

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ