اردوئے معلیٰ

سجدہ حسین نے جو سرِ کربلا کیا

سجدہ حسین نے جو سرِ کربلا کیا

ایسا کسی بشر نے نہ جگ میں ادا کیا

 

دیں کی بقا کے واسطے خود کو فدا کیا

نانا سے جو کیا تھا وہ وعدہ وفا کیا

 

تا حشر یاد رکھیں گے قربانیٔ حسین

حق تھا امام کا جو انہوں نے ادا کیا

 

یہ کارنامہ حضرتِ شبیر ہی کاہے

سر سبز خوں سے گلشنِ مہر و وفا کیا

 

آقا نے اپنے خوں کی دے کر انہیں چمک

ذرّاتِ کربلا کو فداؔ بے بہا کیا

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ