اردوئے معلیٰ

سجدہ گاہِ عالم میں، ایک ہو بھی ہو جائے

 

سجدہ گاہِ عالم میں، ایک ہو بھی ہو جائے

عرضِ مدعا اپنی، رُوبرو بھی ہو جائے

 

شکر ہے خدا تیرا پی رہا ہوں زم زم میں

پیاس بھی بجھے میری، جاں رفو بھی ہو جائے

 

آنکھ دیکھ لے کعبہ، ہو جبین سجدے میں

دل میں اپنے خالق سے گفتگو بھی ہو جائے

 

دید مصطفیٰ چاہوں، ہے خدا دعا میری

زندگی کی یہ پوری آرزو بھی ہو جائے

 

آنکھ جو لگے میری، تیرے روبرو مولا!

دید مصطفیٰ کی پھر دوبدو بھی ہو جائے

 

ہو خدا عنایت جو روشنی مدینے کی

عشق مصطفیٰ میں گل، خوب رو بھی ہو جائے

 

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ