اردوئے معلیٰ

Search

سخت بے چینی کا عالم بھی مکمل چین بھی

مرحلے ہیں چند ہجر و وصل کے ما بین بھی

 

نام لے لے کر بُلاتے جسم کی گہرائیاں

دائرہ در دائرہ ، مخروط بھی ، قوسین بھی

 

”قاف“ قامت کی قیامت ، ”شین“ شوخی شعر کی

عشق کی تکمیل کو عریاں بدن کا ”عین“ بھی

 

مرتعش لب تو چلو ہونٹوں سے ڈھانپے جا چکے

داستاں کہتے ہیں لیکن نیم وا دو نین بھی

 

وصل کے دن نے تو سینکی دھوپ روشن جسم کی

تیرگی کشکول کر کے ملتجی ہے رین بھی

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ