سخن کو رتبہ ملا ہے مری زباں کیلئے

 

سخن کو رتبہ ملا ہے مری زباں کیلئے

زباں ملی ہے مجھے نعت کے بیاں کیلئے

 

زمیں بنائی گئی کس کے آستاں کیلئے

کہ لا مکاں بھی اٹھا سر و قد مکاں کیلئے

 

ترے زمانے کے باعث زمیں کی رونق ہے

ملا زمین کو رتبہ ترے زماں کیلئے

 

کمال اپنا دیا تیرے بدر عارض کو

کلام اپنا اتارا تری زباں کیلئے

 

نبی ہے نار ترے دشمنوں کے جلنے کو

بہشت وقف ترے عیش جاوداں کیلئے

 

تھی خوش نصیبی عرش بریں شب معراج

کہ اپنے سر پہ قدم شاہ مرسلاں کیلئے

 

نہ دی کبھی ترے عارض کو مہر سے تشبیہ

رہا یہ داغ قیامت تک آسماں کیلئے

 

عجب نہیں جو کہے تیرے فرش کو کوئی عرش

کہ لا مکاں کا شرف ہے ترے مکاں کیلئے

 

خدا کے سامنے محسن پڑھوں گا وصف نبی

سجے ہیں جھاڑ یہ باتوں کے لا مکاں کیلئے

 

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے

متعلقہ اشاعتیں

یا محمد محمد میں کہتا رہا نور کے موتیوں کی لڑی بن گئی
خدا کے واسطے لے چل صبا مدینے میں
پھر کرم ہوگیا میں مدینے چلا
معطّر شُد دل از بوئے محمّد
دلدار بڑے آئے محبوب بڑے دیکھے
خالق کے شاہکار ہیں خلقت کے تاجدار
خوشبو اُتر رہی ہے مرے جسم وجان میں
بسائیں چل کے نگاہوں میں اُس دیار کی ریت
دونوں جہاں میں حسن سراپا ہیں آپ ہی
ذات عالی صفات کے صدقے

اشتہارات