اردوئے معلیٰ

سردارِ جہاں ختمِ رسل فخرِ بشر ہو

محبوب ہو اللہ کے منظورِ نظر ہو

 

بستانِ نبوت کے تمہیں وہ گلِ تر ہو

تا حشر خزاں کا نہ کبھی جس پہ اثر ہو

 

شعلہ تری الفت کا شر ر بار اگر ہو

صدیق ہو بوبکرؓ تو فاروق عمرؓ ہو

 

خود چل کے کبھی سایہ فگن تم پہ شجر ہو

انگلی سے کبھی معجزۂ شقِ قمر ہو

 

توحید کے نسخہ پہ عمل ان کے اگر ہو

عقبیٰ میں نہ پھر رنج نہ دنیا میں خطر ہو

 

خالق کو ترے دل کی تمنا کی خبر ہو

جس سمت رضا ہو تری قبلہ بھی ادھر ہو

 

ہاں ان کی محبت کے تعلق سے اگر ہو

آنسو جو گرے آنکھ سے صد رشکِ گہر ہو

 

واللہ بہ مصداقِ ‘رفعنا لک ذکرک’

ذکر آپ کا ہر ایک جگہ آٹھ پہر ہو

 

تم حلقۂ احباب میں یوں لگتے ہو جیسے

جھرمٹ میں درخشندہ ستاروں میں قمر ہو

 

کعبہ کی طرف رخ ہو مدینہ کی طرف دل

پھر مانگ دعائیں تو دعاؤں میں اثر ہو

 

مجبور اٹھانے پہ ہوں رنج و غمِ فرقت

پہنچوں میں مدینہ پرِ پرواز اگر ہو

 

محبوبِ خدا آپ ہیں اے شافعِ محشر

خادم پہ سرِ حشر عنایت کی نظرؔ ہو

 

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے۔۔۔

حالیہ اشاعتیں

اشتہارات

اشتہارات