اردوئے معلیٰ

سرکارِ دو عالم کے رُخ پر انوار کا عالم کیا ہو گا

جب زُلف کا ذکر ہے قرآں میں رخسار کا عالم کیا ہو گا

 

محبوب خدا کے جلوؤں سے ایمان کی آنکھیں روشن ہیں

بے دیکھے ہی جب یہ عالم ہے دیدار کا عالم کیا ہو گا

 

جب ان کے گدا بھر دیتے ہیں شاہانِ زمانہ کی جھولی

محتاج کی جب یہ حالت ہے مختار کا عالم کیا ہو گا

 

ہے نام میں ان کے اتنا اثر جی اٹھتے ہیں مُردے بھی سُن کر

وہ حال اگر خود ہی پوچھیں بیمار کا عالم کیا ہو گا

 

جب ان کے غلاموں کے در پر جھکتے ہیں سلاطینِ عالم

پھر کوئی بتائے آقا کے دربار کا عالم کیا ہو گا

 

جب سُن کے صحابہ کی باتیں کفّار مسلماں ہوتے ہیں

پھر دونوں جہاں کے سرور کی گفتار کا عالم کیا ہو گا

 

طیبہ سے ہوا جب آتی ہے بیکلؔ کو سکوں مل جاتا ہے

اِس پار کا جب یہ عالم ہے اُس پار کا عالم کیا ہو گا

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے۔۔۔

حالیہ اشاعتیں

اشتہارات

اشتہارات