اردوئے معلیٰ

Search

سر محشر شفاعت کے طلب گاروں میں ہم بھی ہیں

ہمیں بھی دیکھیئے آقا ، خطا کاروں میں ہم بھی ہیں

 

ہمارے سامنے مسند نشینوں کی حقیقت کیا

غلامان نبی کے کفش برداروں میں ہم بھی ہیں

 

کبھی دنیا کے ہر بازار کو ہم نے خریدا تھا

بکاؤ مال اب دنیا کے بازاروں میں ہم بھی ہیں

 

کرم اے رحمت کونین ان کو پھول بنوا دے

گرفتار آتش دنیا کے انگاروں میں ہم بھی ہیں

 

اچٹتی سی نظر ہم پہ بھی ہو جائے شہہ والا

تمہارے لطف بے حد کے سزاواروں میں ہم بھی ہیں

 

سراسر پھول ہیں باغ محمد میں ہر اک جانب

صبا یہ سوچ کر خوش ہے یہاں خاروں میں ہم بھی ہیں

 

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ