اردوئے معلیٰ

Search

سر نہ سجدے سے اٹھا تاخیر پر تاخیر کر

ذرے جو تحتِ جبیں آئے انہیں اکسیر کر

 

بندۂ رب بن کے روشن اپنی تو تقدیر کر

عالمِ کن ہے ترا قبضے میں یہ جاگیر کر

 

عشقِ باری، حبِّ احمد، انسِ مخلوقِ جہاں

یہ ہیں اجزائے ثلاثہ ان سے دل تعمیر کر

 

دامنِ ہستی میں تیرے جو ہیں ذرے خاک کے

ضربِ اللہ ھو سے اس مٹی کو پُر تنویر کر

 

اس طرح سے کچھ نہ کچھ شاید کہ ہلکا بوجھ ہو

اضطرابِ دل نظرؔ اپنا تو عالم گیر کر

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ