سلام میں نے پڑھا ہے رسول کے در پر

سلام میں نے پڑھا ہے رسول کے در پر

قبول ہونے لگا ہے رسول کے در پر

 

میں منتظر ہوں بلاوے کا، جانتا ہوں مگر

یہ حاضری بھی عطا ہے رسول کے در پر

 

مجھے یقین ہے ان کے کرم کے باعث ہی

مجھے بلایا گیا ہے رسول کے در پر

 

مرے خدا کی یہ مجھ پر بڑی عنایت ہے

نعم کا خوان کھلا ہے رسول کے در پر

 

نصیب خاک مدینہ سے آنکھ کو طاہر

سکون ایسا ملا ہے رسول کے در پر

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ