سناں پہ قاریٔ قرآن سر حسین کا ہے

سناں پہ قاریٔ قرآن سر حسین کا ہے

جو بوسہ گاہِ ملائک ہے در حسین کا ہے

 

لہو میں رقص کناں ہوگی بوئے مشکِ ختن

درونِ قلب اگر مستقر حسین کا ہے

 

چلے ہیں دین کی خاطر لٹانے گھر اپنا

اگرچہ سخت کٹھن یہ سفر حسین کا ہے

 

زمیں ہے آلِ محمد کی صحنِ جنت میں

جو سر پہ سایہ فگن ہے، شجر حسین کا ہے

 

ملی ہے گود میں جس کو شہادتِ عظمیٰ

وہ شیر خوار بھی لختِ جگر حسین کا ہے

 

حیاتِ جاوداں پائی کٹا کے سر اپنا

قسم خدا کی یہ کارِ ہنر حسین کا ہے

 

یہی بنائے گا اشفاق سارے کام ترے

گھرانہ سارا بڑا با اثر حسین کا ہے

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے

متعلقہ اشاعتیں

بدل یا فرد جو کامل ہے یا غوث
نہیں خوش بخت محتاجانِ عالم میں کوئی ہم سا
دین نبی کی شمع جلاتے ہیں غوث پاک
مالکِ ارض و سما ہے ذات تیری بے عدیل
قبلۂ اہلِ نظر کوچہ شہِ نوّاب کا
معرفت کے باب کا عنوان ہیں نواب شاہ
جبینِ خامہ حضورِ اکرم کے سنگِ در پر جھکائے راکھوں
کسے نہیں تھی احتیاج حشر میں شفیع کی
میم تیرے نام کی تلخیصِ ہست و بود ہے
حاصل ہے مجھ کو نعت کا اعزاز یا نبیؐ

اشتہارات