اردوئے معلیٰ

 

سنا ہے شب میں فرشتے اُتر کے دیکھتے ہیں

تو دن میں اُڑتے پرندے گزر کے دیکھتے ہیں

 

سنا ہے نور برستا ہے شب میں رحمت کا

چلو کہ رات وہاں ہم ٹھہر کے دیکھتے ہیں

 

سنا ہے آتی ہے خوش بو وہاں کی گلیوں سے

گلی گلی سے چلو ہم گزر کے دیکھتے ہیں

 

سنا ہے آتی ہے خوش بو حریم جنت سے

چلو کہ شبنمی قطرے سحر کے دیکھتے ہیں

 

ہیں خوش نصیب جو رہتے ہیں گل مدینے میں

نظارے لطف میں شام وسحر کے دیکھتے ہیں

 

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے۔۔۔

حالیہ اشاعتیں

اشتہارات

اشتہارات