اردوئے معلیٰ

سوچا ہے یہ ہم نے تمہیں سوچا نہ کریں گے

ہم تم کو تصور میں بھی رُسوا نہ کریں گے

 

گر تم کو بچھڑنے پہ نہیں کوئی ندامت

مل جاؤ تو ہم بھی کوئی شکوہ نہ کریں گے

 

رستے میں اگرچہ ہیں ہواؤں کے نشیمن

ہم مشعلِ خود داری کو نیچا نہ کریں گے

 

ہاں ذوقِ سفر بڑھ کے ہے منزل کی ہوس سے

ہم کھو بھی گئے تو کوئی شکوہ نہ کریں گے

 

وہ حرفِ سخن جو تری نسبت سے ملا ہے

اس حرف کو بازار میں رسوا نہ کریں گے

 

اپنی ہی بغاوت سے نبٹنا نہیں ممکن

یہ دل نہیں چاہے گا تو وعدہ نہ کریں گے

 

تڑپیں گے نہ بیکار کسی فکرِ عبث میں

احساس کی دولت کو یوں ضایع نہ کریں گے

 

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے۔۔۔

حالیہ اشاعتیں

اشتہارات

اشتہارات