اردوئے معلیٰ

سوچتا رہتا ہوں اے کاش کچھ ایسا لکھوں

سوچتا رہتا ہوں اے کاش کچھ ایسا لکھوں

سب کو مقبول وہ فرما لیں میں جتنا لکھوں

 

ان کے الطاف و کرم کو لکھوں فضل مولیٰ

جسم بے سایہ کو رحمت کا میں سایہ لکھوں

 

جس سے سیراب ہوئے خشک زمیں کے خطے

ان کو وہ فیض کا بہتا ہوا دریا لکھوں

 

کوئی فہرست مرتب جو کریموں کی کروں

اس کے ہر خانے میں بس نام تمہارا لکھوں

 

دولت نور سے پر ہے جو فلک کا دامن

خاک پائے شہ ابرار کا صدقہ لکھوں

 

پڑھ کے قرآن میں اسلوب تری مدحت کا

لے کے بیٹھا ہوں قلم سوچ میں ہوں کیا لکھوں

 

ان کے در پر لگا رہتا ہے دو عالم کا ہجوم

سب کو بیمار لکھوں ان کو مسیحا لکھوں

 

ان کے اوصاف و کمالات خدا ہی جانے

میں تو بس ان کی محبت کا قصیدہ لکھوں

 

نور ہی نور ہو احساس کا ہر گوشہ کفیل

میں جو ذرات مدینہ کا حوالہ لکھوں

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ