’’سوکھے دھانوں پہ ہمارے بھی کرم ہو جائے‘‘

 

’’ سوکھے دھانوں پہ ہمارے بھی کرم ہو جائے ‘‘

دوٗر نقصان و زیاں شاہِ اُمم ہو جائے

کشتِ بے نخل کی قسمت کو سنوارے گیسو

’’ چھائیں رحمت کی گھٹا بن کے تمہارے گیسو ‘‘

 

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email
لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے

متعلقہ اشاعتیں

بخشش تھی سو رحمت کے خزینے سے مِلی ھے
پَل میں ورائے عرش گئے اور آگئے
درِ سرکارؐ کیا عظمت نشاں ہے
وہ صداقت وہ دیانت آپؐ کی
خداوندا مرا دِل شاد رکھنا
نگاہِ لطف آقاؐ غم زدہ رنجور ہوں میں
مرے دل میں مری سرکارؐ کی بس یاد بستی ہے
نہیں اُنؐ سا کوئی کون و مکاں میں
’’فخرِ آقا میں رضاؔ اور بھی اک نظمِ رفیع‘‘
’’ملکِ سُخن کی شاہی تم کو رضاؔ مُسلّم‘‘