اردوئے معلیٰ

Search

سو بار گناہوں سے جو دل اپنا بچائے

تب آقا سے ملنے کو مدینے میں وہ جائے

 

منکر کی صفوں میں جو لیا نام نبی کا

دشمن وہ ہوا دل سے مرا بیٹھے بٹھائے

 

رہتا ہے مرے دل میں یہ ارمان ہمیشہ

اے کاش مدینے کی کوئی بات سنائے

 

قسمت کا سکندر ہے مقدر کا دھنی ہے

میلاد کی محفل سے جو گھر بار سجائے

 

دل گیر نظر ماں بھی تو ہر بار سکوں لے

لوری سے محمد کی جو بچوں کو سلائے

 

منکر کی لحد میں تو ہے سانپوں کا بسیرا

جو میرے محمد کے مراتب کو گھٹائے

 

کربل میں ستائے ہیں محمد کے نواسے

بچوں پہ ستم کر کے وہ بوڑھے بھی رلائے

 

جب کوئی بھی خضرٰی کی زیارت میں مگن ہو

قائم وہ نگاہوں کو بھی اک بار جھکائے

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ