اردوئے معلیٰ

سکون آور ، سرور افزا ہے نام تیرا

ہے بزمِ احساس کا اجالا پیام تیرا

 

زوال کی دسترس سے باہر ہے صبح تیری

ہے آفتابِ عروج محوِ خرام تیرا

 

مرا اثاثہ مری شب و روز کی تمنا

تری محبت ، تری رضا ، احترام تیرا

 

نگاہ رحمت مرے نبی کی اگر نہ پڑتی

تو چل نہ سکتا تھا اے زمانے نظام تیرا

 

بچایا دیوارِ جاں کو جس نے شکستگی سے

وہ ہے سہارا ترا ، وہ ہے لطفِ عام تیرا

 

دیار طیبہ ! یہ صدقۂ شاہِ دو سرا ہے

جو ذرہ ذرہ ہے رشکِ ماہِ تمام تیرا

 

یہ لوحِ بادِ صبا پہ گل نے رقم کیا ہے

بنا ہے خوشبو سے جسم خیر الانام تیرا

 

صدفؔ ! ستارہ ترے مقدر کا جگمگایا

ثنا کے صدقے سخن ہے ذی احتشام تیرا

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے۔۔۔

حالیہ اشاعتیں

اشتہارات

اشتہارات