اردوئے معلیٰ

سکھائی ناز نے قاتل کو بے دردی کی خو برسوں

سکھائی ناز نے قاتل کو بے دردی کی خو برسوں

رہی بیتاب سینہ میں ہماری آرزو برسوں

 

گرا سجدے میں تجھ کو دیکھتے ہی وائے رسوائی

کیا تھا جس ولی نے آب زمزم سے وضو برسوں

 

عجب حالت میں ہو جاتا ہے اس کا دیکھنے والا

نہ پائے آپ کو ہرگز کرے گر جستجو برسوں

 

نہ پوچھو بے نیازی آہ طرز امتحاں دیکھو

ملائی خاک میں ہنس ہنس کے میری آبرو برسوں

 

خرابی ہو گئی زاہد بنایا ہجر ساقی نے

عزیزؔ افسوس الگ رہتا ہے ساغر سے سبو برسوں

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ