اردوئے معلیٰ

نہاں ہے خانۂ دل میں وہ نام بچپن سے

نہاں ہے خانۂ دل میں وہ نام بچپن سے

انیسِ جاں ہیں درود و سلام بچپن سے

 

حروفِ نعت میں خورشید کی شعائیں ہیں

میں لکھ رہا ہوں یہ روشن کلام بچپن سے

 

ہزار رحمتِ رب جذب عشقِ پر جس نے

سکھا دیا ہے مجھے ایک کام بچپن سے

 

زہے نصیب کہ حاصل ہے دل کو یہ لذت

مراقبے میں سلام و پیام پچپن سے

 

وہ اپنے چاہنے والوں کو خود بلاتے ہیں

میں دیکھتا ہوں یہی لطفِ عام بچپن سے

 

رُتوں کے ساتھ بدلتے ہیں عارضی محبوب

ہے دل میں عشقِ نبی کا مقام بچپن سے

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ