اردوئے معلیٰ

Search

وردِ درودِ پاک سے رستہ سمٹ گیا

برسوں کا جو سفر تھا، وہ لمحوں میں کٹ گیا

 

زلفیں ہٹیں تو دیکھنے والوں کو یوں لگا

والشمس رخ پہ ابر کا سایا تھا، چھٹ گیا

 

مولا کا اختیار دکھانے کے واسطے

قبلہ بدل گیا، کبھی سورج پلٹ گیا

 

کفار نے دلیل طلب کی، زمین پر

اور چاند آسمان پہ ٹکڑوں میں بٹ گیا

 

اُن کے کرم سے آج پھر اک نعت ہو گئی

فرد عمل سے ایک گنہ اور گھٹ گیا

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ