اردوئے معلیٰ

سید سلطان احمد اجمیری اور سید فخرالدین بلے , داستانِ رفاقت

سید سلطان احمد اجمیری اور سید فخرالدین بلے , داستانِ رفاقت

ممتاز مذہبی و روحانی اسکالر اور معروف صحافی و ادیب سید سلطان احمد اجمیری فطرتاََ درویش صفت اور فقیرانہ مزاج کی حامل شخصیات میں شمار کیے جاتے ہیں۔ اگر انہیں بےحد وسیع المطالعہ اور وسیع المشاہدہ تسلیم کیا جاۓ تو ان کی شخصیت کے بہت سے پہلوؤں کو سمجھنا قدرے آسان ہو سکتا ہے۔ مثال کے طور پر وہ حد درجہ کم گو ہونے کے باوجود مذاہب ِ عالم ۔ مذہب اسلام ۔ تاریخ ِ اسلام اور تصوف ۔ عالمی ادب کے ہی نہیں بلکہ ادب و ثقافت اور مختلف تہذیبوں کے تقابلی تجزیے ہوں یا کسی بھی ملک کی دفاعی ۔ سماجی ۔ سیاسی اور معاشی اور معاشرتی صورت ِ حال آپ بنا کسی پیشگی نوٹس یا اطلاع کے سید سلطان احمد اجمیری کو اظہار خیال کی دعوت دے سکتے تھے۔ اور وہ گھنٹوں تاریخی حوالہ جات کے ساتھ ان موضوعات پر گفتگو فرماسکتے تھے۔ آثار ِ قدیمہ ۔ تاریخی عمارات و مقامات کا تفصیلی پس منظر بیان فرمانا شروع کرتے تو آپ سنتے ہی رہتے۔
سید سلطان احمد اجمیری اور سید فخرالدین بلے کی داستان ِ رفاقت کم و بیش چالیس پچاس برسوں پر مشتمل ہے۔ ہم تو ہوش سنبھالنے کے بعد سے ہی سید سلطان احمد اجمیری کو سید فخرالدین بلے کے مقربین اور محبان میں سے دیکھتے آرہے ہیں اور ہم کیا دیگر بہت سے احباب بھی بخوبی واقف ہیں کہ سید سلطان احمد اجمیری صاحب شطرنج کے رسیا تھے۔ والد گرامی سید فخرالدین بلے شاہ صاحب سگریٹ نوشی فرمایا کرتے تھے اور سید سلطان احمد اجمیری پائپ پیا کرتے تھے ان کے پاس اعلی اقسام کے پائپ ہوتے تھے اور پائپ میں میں وہ عموما“ ایرن مور کا تمباکو استعمال فرماتے اور پایپ کو صاف کرنے کےلیے کلینر بھی استعمال فرماتے کہ جو نیل کٹر جیسا سا ہوتا تھا۔ ان تمام تر اشیا ٕ کو ہر وقت اپنے ساتھ رکھنے کےلیے وہ ایک چھوٹا سا لیدر کا پاؤچ یا بیگ اپنے ساتھ رکھتے تھے۔ رات بھر ان کی ۔تصوف اور مذہب ۔ ادب اور ادبی رحجانات ۔ صحافت ۔ سیاست ۔ معیشت اور معاشرت تہذیب کے زوال پذیر ہونے جیسے مختلف موضوعات پر گفتگو جاری رہتی اس دوران بہت ادیبوں شاعروں ۔ سیاستدانوں ۔ صحافی حضرات کی آمد و رفت کا سلسلہ بھی جاری رہتا۔ خوب دھواں دھار محفلیں سجاکرتیں۔ شب بیداری کی محافل اور نشستوں میں مستقل شرکا ٕ بھی تھے۔ مخدوم سجاد حسین قریشی ۔ صادق حسین قریشی۔ سید خاور علی شاہ ۔ صاحبزادہ فاروق علی۔ غنی چوہدری ۔ شمس ملک ۔ سعید صدیقی ۔ شبیر حسن اختر۔ اور ممتاز العیشی اور کبھی کبھار جاوید اختر بھی صاحب ۔ لیکن ہفتہ وار تعطیل یا عید یا کسی اور حوالے سے تعطیل ہوتی تو یہ محافل شب بھر اور دن بھر جاری رہا کرتی تھیں ۔ البتہ دن کے اوقات میں چند دیگر احباب بھی شامل ہوا کرتے تھے۔ جیسے قصور گردیزی ۔ ڈاکٹر سید مقصود زاہدی۔ پروفیسر صلاح الدین حیدر ۔ پروفیسر انورجمال ۔ ڈاکٹر محمد امین ۔ ڈاکٹر عاصی کرنالی ۔ ڈاکٹر ہلال جعفری ۔ ڈاکٹر عرش صدیقی اور کبھی کبھار مسعود اشعر صاحب بھی جب وہ لاہور سے آۓ ہوۓ ہوتے۔
——
یہ بھی پڑھیں :  قابل اجمیری کا یوم وفات
——
ہمارے ہاں رجب المرجب حد درجہ عقیدت و احترام سے منایا جاتا۔ رجب کی چھ تاریخ کو بہت اہتمام کیا جاتا اور اسے چھٹی شریف بھی کہا جاتا تھا۔ جب کہ تیرہ رجب المرجب کو جناب امیرالمونین ع مولا مشکل کشا ٕ وصی ٕ رسول داماد رسول زوج ِ بتول حسنین کریمین ع کے بابا سرکار مولا حضرت علی ابن ابی طالب ع کا جشن ظہور منایا جاتا ۔ محفل ِ سماع نذر و نیاز اور دیگر لوازمات کا خاص خیال رکھا جاتا۔ جب تک صحت نے اجازت دی تب تک تو حضرت علامہ سید احمد سعید کاظمی صاحب اور ان کے ہمراہ اکثر مفتی غلام مصطفی رضوی جبکہ مخدوم سجاد حسین قریشی صاحب بھی اپنے چند احباب کے ہمراہ تشریف لایا کرتے۔ چھٹی شریف کو جس خصوصی ڈش کو نہایت محنت سے تیار کیا جاتا تھا وہ ہوتی تو کھیر تھی میوہ جات سے بھرپور لیکن اسے کھچڑی کا نام دیا جاتا تھا۔ احتیاط یہ برتی جاتی تھی کہ یہ نیاز گھر سے باہر تقسیم نہ کی جاۓ بلکہ شرکاۓ ختم خواجگان اور دیگر احباب کی اس سے تواضح کی جاۓ ۔ سید سلطان احمد اجمیری گو کہ ہمارے ہاں بلا ناغہ تشریف لانے والے احباب میں سے تھے تاہم پھر بھی چھ رجب المرجب کو ان کے ہاں یہ پیغام ضرور پہنچایا یا پہنچوایا جاتا تھا کہ آج بسلسلہ چھٹی شریف حضرت خواجہ معین الدین چشتی اجمیری کی نیاز ہے۔ مجھے ایسا یاد نہیں کہ خواجہ جی غریب نواز کی نیاز کا دن ہو سید جی سلطان احمد اجمیری حاضر نہ ہوۓ ہوں۔ اگر محفل سماع کا بھی اہتمام ہوتا تو پھر تو اس روز شطرنج کا ناغہ ہوا کرتا بصورت دیگر بعد ازنماز مغرب اجمیر شریف کے قصے شروع ہوجاتے اور حضرت خواجہ جی کی تعلیمات اور ان کے بےمثل سخن پارے بیان کیے جاتے۔ درگاہ حضرت خواجہ جی غریب نواز پر نذر نیاز کے ساتھ ان دو بڑی اور خاص الخاص دیگوں کے حوالے سے بھی تفصیلات کا بیان ہوتا اور عرس کے ایام میں اور عام دنوں میں جو خواجہ غریب نواز کی درگاہ پر گہما گہمی کا رواج ہے اس پر بھی روشنی ڈالی جاتی ۔ سرکار حضرت علامہ سید احمد سعید شاہ صاحب کاظمی اور مخدوم سجاد حسین قریشی ۔ سید سلطان احمد اجمیری اور والد گرامی قبلہ سید فخرالدین بلے شاہ کے کے بیان اور ان کے مابین ہونے والی اس گفتگو سے ہم سب ہی فیض یاب ہوا کرتے۔ ہر گفتگو سننے والے کو بخوبی اندازہ ہوجایا کرتا تھا کہ جید عالم دین اور مفسر قرآن عظیم روحانی پیشوا جناب سرکار حضرت علامہ سید احمد سعید کاظمی شاہ صاحب اور ان کے ساتھ محو گفتگو یہ تینوں چاروں قرآن فہم بھی ہیں اور عربی ۔ فارسی اور شناس بھی۔ ہاں البتہ ہمارا یہ مشاہدہ بھی ہے کہ قوالی کی محفل ہورہی ہوتی تو یہ چاروں اور چند ایک دیگر احباب گفتگو سے اجتناب برتتے۔ اور ان کی زبان پر درود شریف اور آنکھوں سے اشک جاری رہتے۔ قوالی کی محفل کے آغاز گویا کہ من کنت مولا ۔ فھذا علی مولا
کا ابھی ساز شروع ہی ہوتا تو ان کا جھومنا بھی ۔ نہایت جھوم جھوم کر قول سماعت فرماتے اس کے بعد حمد ۔ نعت ۔ منقبت اہل بیت اور منقبت اولیا ٕ نہایت احترام کے ساتھ سنتے اور پھر جب خواجہ کی دیوانی یا مورے خواجہ جیسا کلام پڑھا جاتا تو یہ جھوم جھوم جاتے خوب خوب داد بھی دیا کرتے اور نذرانے بھی اور پھر جب قوالی کے اختتام پر رنگ پڑھنا شروع کیا جاتا تو اس سے قبل ہی یہ چاروں پانچوں اور ان کے ساتھ ہی دیگر شرکاۓ محفل قوالی بھی تعظیما“ اٹھ کھڑے ہوتے اور تمام تر رنگ نہایت ادب کے ساتھ کھڑے ہوکر سنتے ۔ اور آخر میں دعا کا اہتمام ہوا کرتا۔
——
یہ بھی پڑھیں : قیسی رامپوری کا یومِ وفات
——
آنِس معین اور سید سلطان احمد اجمیری کی شطرنج کی بازیاں بھی برسوں جاری رہیں۔ سید سلطان احمد اجمیری کے ایک شطرنجی دوست مسرور صابری ہر برس دوچار ماہ کےلیے محض شطرنج کھیلنے کےلیے کراچی سے ملتان آیا کرتے تھے ۔ عموما“ ان کا قیام بالمقابل جلیل آباد یا گلڈ ہوٹل جناب منصور کریم صاحب کے ڈیرے پر ہوا کرتا تھا۔ لیکن وہ شطرنج ہارے گھر پر ہی آکر کھیلا کرتے تھے۔
بلکہ ایک مرتبہ تو سید سلطان احمد اجمیری کے اصرار پر آنِؔس معین نے شطرنج ٹورنامینٹ میں رجسٹریشن کروائی تھی اور فائینل راؤنڈ میں اسی نذیر جونیر سے ہار بیٹھے جسے اسی ٹورنامینٹ میں تین بار شکست دے چکے تھے۔ اس ٹورنامینٹ کے دوران ہمیں یہ اندازہ کہ اے۔پی۔پی کے بیوروچیف جناب غنی چوہدری بھی شطرنج ٹورنامینٹ میں دلچسپی رکھتے ہیں ۔ ٹورنامینٹ کے دوران روزانہ کا نتیجہ برادر آنِس معین کے گھر پہنچنے سے قبل جناب غنی چوہدری صاحب خود آکر بتاتے تھے۔ یہاں ایک بات کا ذکر یقینا“ بے محل نہ ہوگا اور وہ یہ ہمارے والد گرامی سید فخرالدین بلے شاہ صاحب کے صوفی دوستوں کے گروپ میں سید سلطان احمد اجمیری بھی شامل تھے۔ اور ایک بات جو آنس معین کے حوالے سے اکثر لوگوں نے لکھی کہ آنس معین کے والد کے صوفی دوستوں کے مابین خود آنس معین کی موجودگی میں اس موضوع پر بھی گفتگو رہی یا اس کا بات کا ذکر تذکرہ بھی ہوا کہ اگر دنیا کے لوگوں کو یہ معلوم ہوجاۓ کہ مرنے کے بعد کی دنیا کس قدر حسین ہوگی تو اس دنیا کے آدھے سے زیادہ لوگ خود کشی کرلیں۔
سید سلطان احمد اجمیری کا ہم چاروں برادران کو مخاطب کرنے کا ایک مخصوص انداز تھا وہ ہم میں سے کسی کا بھی نام لے کر مخاطب نہیں کرتے تھے بلکہ سیدی یا عزیزی کہہ کر مخاطب کیا کرتے تھے۔ ہم نے سید سلطان احمد اجمیری کو روزنامہ امروز ملتان میں بطور نیوز ایڈیٹر اور بعدازاں ریزیڈنٹ ایڈیٹر خدمات انجام دیتے دیکھا۔ ان کے گھر اور دفتر کا فاصلہ بمشکل ایک ڈیڑھ فرلانگ کا ہوگا۔ رات کو اخبار کی کاپیاں پریس بھیجنے کے بعد وہ سیدھے ہمارے ہاں تشریف لاتے نواۓ وقت ملتان کے نیوز ایڈیٹر جناب شمس ملک بھی دفتر فراغت پاکر سٕدھے بلے ہاؤس کا رخ کیا کرتے اور اذان فجر کے بعد ہمارے ہاں سے رخصت ہوجایا کرتے مطلب یہ اپنے اپنے گھروں کو لوٹ جاتے۔ اور پھر اکثر دن کے قریب تین بجے ہمارے ہاں شام چھ ساڑھے چھ بجے تک شطرنج کی بازیاں لگا کرتی تھیں۔ ایک وہ وقت بھی آیا کہ جب ڈیرہ اڈہ چوک پر جاوید اختر بھٹی صاحب بیثھک کا اہتمام فرمایا کرتے کڑکڑاتی سردی کی راتوں میں الاؤ کے گرد سید سلطان احمد اجمیری ۔ سید فخرالدین بلے ۔ چشتی صاحب اور جناب جاوید اختر بھٹی صاحب اور ہم ۔ سخت جاڑوں میں الاؤ کے گرد سیاسی ۔ ادبی ۔ سماجی مذہبی غرض کہ ہر موضوع پر گفتگو ہوا کرتی اور چاۓ کے دور چلا کرتے۔
جو لوگ سید سلطان احمد اجمیری کو جانتے ہیں یا جنہوں نے انہیں قریب سے دیکھا ہے ۔وہ میری اس راۓ سے یقینا“ اتفاق کریں گے کہ سلطان انکل کے روابط چند ایک پہنچے ہوۓ بابوں سے بھی تھے ۔ اور ان میں قابل ذکر حضرت بابا بگا شیر تھے۔ سلطان انکل حضرت بابا جی بگا شیر کے چہیتے مریدوں اور محبان میں سے تھے۔ بابا جی حضرت اشفاق احمد کے بارے میں بھی لوگ ان کی زندگی میں ہی کہا کرتے تھے کہ اشفاق تو بابے ہی تلاش کرت رہتے ہیں اور ہم اس وقت بھی ان سے کہا کرتے تھے اشفاق احمد تو خود ایک باباجی ہیں گو کہ ہم اشفاق احمد خاں صاحب اور صدیقہ بیگم کے ہمراہ بابا جی نوروالے سرکار کی زیارت کرچکے تھے۔ ہمیں یہ بھی اعزاز حاصل ہے کہ ہم سید سلطان احمد اجمیری کے ہمراہ باباجی سرکار بگا شیر کے بھی نیاز حاصل کرچکے ہیں ۔ رانجھا رانجھا کردی نی میں آہے رانجھا ہوئی ۔ سید سلطان احمد اجمیری بھی خود اپنی ذات میں بابا سید سلطان احمد اجمیری بن چکے تھے۔
——
یہ بھی پڑھیں : کتاب کا مقدمہ ” ہم سید فخرالدین بلے کے قرض دار ہیں”۔
——
ضیا ٕ الحق کا عہد ِ آمریت سخت ترین اور بد ترین بلکہ گھناؤنے ترین سینسر شپ کا زمانہ تھا اور پاکستان پریس ٹرسٹ کے تینوں روزناموں یعنی کہ روزنامہ امروز ۔ روزنامہ مشرق اور دی پاکستان ٹایمز میں چیف ایڈیٹرز ۔ ریزیڈنٹ ایڈیٹرز ۔ نیوز ایڈیٹرز اور میگزین ایڈیٹرز کی جان عذاب میں تھی ۔ اس پر انٹلی جینس ایجینسیز کی رپورٹس نے ایک اور مصیبت کھڑی کر رکھی تھی ۔ روزنامہ امروز ملتان کے سابق ریزیڈنٹ ایڈیٹر جناب مسعود اشعر اور دیگر کا عبرتناک انجام مثال دینے کےلیے پیش کیا جاتا تھا ۔
سید سلطان احمد اجمیری نے یہ واقعہ متعدد بار سنایا کہ لاڑکانہ/ گڑھی خدا بخش کے نامہ نگار نے اپریل 1979 کی یکم اور دو تاریخ کی درمیانی شب امروز ملتان کو چند سطروں پر مشتمل ایک خبر بھیجی جو کہ کچھ یوں تھی کہ نوڈیرو / گڑھی خدا بخش میں سرشاہنواز بھٹو کی قبر کے قریب ایک قبر تیار کرکے اس میں ان بجھا چونا بچھا دیا گیا ہے۔ اس وقت کے ریزیڈنٹ ایڈیٹر کی ہدایت پر اس خبر کو اشاعت سے روک دیا گیا۔ اور جب ضیا ٕ الحق کی مجلس ِ شوری نے حلف اٹھا یا تو اس روز سید سلطان احمد اجمیری پر عجیب کیفیت طاری تھی وہ اقبال کی نظم ابلیس کی مجلس ِ شوری نہایت عمدہ تحت اللفظ میں پیش فرما رہے تھے۔ گو کہ ہم نے سلطان انکل کو کبھی بھی کسی کی بھی غیبت کرتے یا کسی کے حوالے سے کوی بھی منفی بات کرتے نہیں سنا ۔ لیکن ہمارے والد کی طرح بلکہ بہت سوں کی طرح وہ بھی جنرل ضیا ٕ الحق اور اس کے تمام تر اقدامات سے نالاں تھے۔ جاوید احمد قریشی ۔ فیض احمد فیض ۔ مسعود اشعر ۔ حاجی کھوکھر ۔ غنی چوہدری سید اظہر امام زیدی شیخ حفیظ الرحمن کی طرح سید سلطان احمد اجمیری بھی بخوبی واقف تھے کہ ذوالفقار علی بھٹو اور سید فخرالدین بلے کے بہت قریبی مراسم اور حد درجہ اعتماد کی تعلق داری کا رشتہ تھا۔ جب ذوالفقار علی بھٹو وزیراعظم پاکستان تھے اور ضیا ٕ الحق ملتان کے کور کمانڈر تھے تو اکثر و بیشتر کورکمانڈر صاحب قبلہ سید فخرالدین بلے شاہ صاحب کے دفتر میں آۓ بیٹھے ہوتے تھے۔ اور یہ کہ ان کی فیملی کا ہر جمعہ کے روز ظہرانہ جناب مسعود اشعر کے ہاں مخصوص تھا۔ لیکن جب ابوالمنافقین نے ایک منتخب جمہوری حکومت کا تختہ الٹ کر اقتدار پر قبضہ کرلیا تو اس کا پہلا نشانہ مسعود اشعر تھے ۔ فیض احمد فیض اور سید فخرالدین بلے اور پروفیسر صلاح الدین حیدر ۔ ڈاکٹر اصغر ندیم سید .پروفیسر خالد سعید جیسے اللہ جانے کتنے ہی ترقی پسند ذہن کے حامل اور جمہوریت پسند عناصر ہونگے کہ جو ابوالمنافقین کی آمرانہ اور منتقمانہ سوچ کا نشانہ بنے ہونگے۔ جب کشکول خان کے گرو جی کا انت ہوا ۔ ان کی چتا جلی اس کے فورا“ بعد روزنامہ امروز لاہور کے میگزین سیکشن کے انچارج سعید بدر صاحب کو ایوان صدر سے پانچ سو زیادہ صفحات پر مشتمل مسودات اور کم و بیش تین سو تصاویر موصول ہوتی ہیں اور فون پر ہدایات ملتی ہیں کہ ضیا ٕ الحق ایڈیشنز کی فوری اشاعت کا اہتمام کیا جاۓ اور دلچسپ پہلو یہ ہے کہ اور ہمارے محبوب صدر کا طیارہ فضا میں پٹ گیا کا اعلان فرمانے والے اسحاق خان نے نوے دنوں میں انتخابات کا وعدہ پورا کیا اور ایک جمہوری اور منتخب حکومت کا قیام عمل میں آگیا اور اس کے بعد جو جناب سعید بدر صاحب کے ساتھ ہوا ۔ کچھ خود سعید بدر صاحب نے اور کچھ جناب سید سلطان احمد اجمیری نے بیان کیا ۔ سید سلطان انکل ہمیں ہدایات دیا کرتے تھے کہ یہ امروز کے دفتر کے سامنے جو درخت ہے جس پر ذوالفقار علی بھٹو کی تصاویر آویزاں ہیں اور پاکستان پیپلز پارٹی کا جھنڈا اس درخت کے ساتھ کھڑے ہوۓ پھل فروش ریڑھی بان سے پھل لینے کےلیے نہ رکا کریں کیونکہ وہاں انٹیلی جینس کے لوگ منڈلاتے رہتے ہیں اور آپ کو چلتے پھرتے بینڈماسٹر پر لعنت بھیجنے کی عادت ہے ۔ پاکستان پریس ٹرسٹ کے چیر مین جناب ضیا الاسلام انصاری صاحب کے قبلہ سید فخرالدین بلے سے تو دیرینہ مراسم تھے ہی لیکن سید سلطان احمد اجمیری اور مسعود اشعر صاحب سے بھی ان کے اچھے مراسم تھے ۔
سید سلطان احمد اجمیری کو علم جفر ۔ علم فلکیات ۔ علم الاعداد ۔ دست شناسی پر بھی عبور حاصل تھا۔ نگینوں اور پتھروں کے بہت بڑے ماہر تھے ۔ بڑے بڑے جوہری بھی جب کھرے کھوٹے کی پہچان نہیں کرپاتے تھے تو سید سلطان احمد اجمیری سے رابطہ کرتے تھے ۔
——
یہ بھی پڑھیں : قابل اجمیری کا یوم پیدائش
——
سید سلطان احمد اجمیری نے .12. دسمبر 1932 کو سرکار خواجہ جی غریب نواز کی نگری اجمیر شریف میں آنکھ کھولی اور بٹوارے کے بعد پاکستان آگۓ ۔ انہوں نے اپنی زندگی کا طویل عرصہ ملتان اور حسن پروانہ کالونی میں گزارا.
——
اس نے بھی یہ سوچا ہے کہ بس ربط نہ ٹوٹے
اک دوسری بستی کا پتا دے کے چلا ہے
آنس معین
——
15. مئی 2022 کو محض چند روز بخار میں مبتلا رہنے کے بعد بظاہر اس جہان فانی سے کوچ فرماگۓ ۔ رحلت کے اگلے روز انہیں سپرد ِ خاک کردیا گیا ۔ ان کی آخری آرام گاہ بھی ملتان کے قدیم قبرستان حسن پروانہ میں ہی ہے ۔
یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ