سیرتِ پاک پر بات کا سلسلہ

سیرتِ پاک پر بات کا سلسلہ

ہے سراسر عبادات کا سلسلہ

 

وردِ صلِّی علیٰ کے سبب مجھ پہ ہے

یہ مسلسل عنایات کا سلسلہ

 

آپؐ کے نور سے مٹ گئیں ظلمتیں

چھٹ گیا ہے سیہ رات کا سلسلہ

 

ہے میسّر تیقّن کو امروز بھی

مصطفیٰ کی کرامات کا سلسلہ

 

صرف اذنِ حضوری کا ہوں منتظر

ہو بھی جائے ملاقات کا سلسلہ

 

کیوں نہ ہو پیکرِ صبر و شکر و رضا

سیّدی سے ہے سادات کا سلسلہ

 

شاعری لاکھ وجۂ تفاخر سہی

حاصلِ زیست ہے نعت کا سلسلہ

 

خوش نصیبی ہے میری ، جڑا آپؐ سے

مرتضیٰؔ مجھ سے کم ذات کا سلسلہ

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے

متعلقہ اشاعتیں

حشر میں مجھ کو بس اتنا آسرا درکار ہے
شکستہ حال اپنے دل کو سمجھانے کہاں جاتے
رخ پہ رحمت کا جھومر سجائے کملی والے کی محفل سجی ہے
طیبہ کی اُس ریت پہ پھولوں کے مسکن قربان
حقیقتِ مصطفی کہوں کیا کہ اضطراب اضطراب میں ہے
قلم خوشبو کا ہو اور اس سے دل پر روشنی لکھوں
وہ جو شبنم کی پوشاک پہنے ہوئے
میں پہلے آبِ زم زم سے قلم تطہیر کرتا ہوں​
گل شاہ بحر و بر کا اک ادنیٰ غلام ہے
نہیں ہے ارض وسما میں کوئی شریک خدا

اشتہارات