شاخ پر بیٹھا اِک پرندہ تھا

شاخ پر بیٹھا اِک پرندہ تھا

میں جسے اپنا خواب سمجھا تھا

 

دو گھڑی کو وہ پاس ٹھہرا تھا

کون جانے وہ شخص کیسا تھا

 

دیکھ آنگن میں تیرے چمکا ہے

میری قسمت کا جو ستارہ تھا

 

آج اُس نے بھی خود کشی کر لی

جس کو مرنے سے خوف آتا تھا

 

گھُل گئی ساری تلخی لہجے کی

چائے کا ذائقہ تو میٹھا تھا

 

ق

 

ہم جُدا راستوں کے رہرو تھے

وقت کچھ ساتھ بھی گذارا تھا

 

تیری کوئی الگ ہی منزل تھی

میرا کوئی الگ ہی رستہ تھا

 

بیت جائے گا یہ دسمبر بھی

وہ نہ آیا اُسے نہ آنا تھا

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ