شاخ پر بیٹھا اِک پرندہ تھا

شاخ پر بیٹھا اِک پرندہ تھا

میں جسے اپنا خواب سمجھا تھا

 

دو گھڑی کو وہ پاس ٹھہرا تھا

کون جانے وہ شخص کیسا تھا

 

دیکھ آنگن میں تیرے چمکا ہے

میری قسمت کا جو ستارہ تھا

 

آج اُس نے بھی خود کشی کر لی

جس کو مرنے سے خوف آتا تھا

 

گھُل گئی ساری تلخی لہجے کی

چائے کا ذائقہ تو میٹھا تھا

 

ق

 

ہم جُدا راستوں کے رہرو تھے

وقت کچھ ساتھ بھی گذارا تھا

 

تیری کوئی الگ ہی منزل تھی

میرا کوئی الگ ہی رستہ تھا

 

بیت جائے گا یہ دسمبر بھی

وہ نہ آیا اُسے نہ آنا تھا

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email
لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے

متعلقہ اشاعتیں

عجیب قاعدے ہجرت! تری کتاب میں ہیں
زندہ ہزاروں لوگ جہاں مر کے ہو گئے
ہوئے مسند نشیں پھر ملک و ملت بیچنے والے
تو ہر اک پھول کی خوشبو کا تمنائی ہے
میں جہاں احتجاج کی نہیں ہوں
صبر سے میں نے پچھاڑا ہے بڑے لوگوں کو
ہوائے مہر و محبت سوادِ جاں سے چلے
خشک دریاوُں میں ہلکی سی روانی اور ہے
محفل میں جو بھی ہے ، ان کا مقام ، جانتے ہیں
نظمِ نو آ گیا، انصاف نرالا دے گا