اردوئے معلیٰ

انتخابِ عام کا ظاہر نتیجہ ہو گیا

کلمہ گوؤں کے دلوں کا راز افشا ہو گیا

حسنِ ظن ان کی طرف سے تھا جو رسوا ہو گیا

محوِ حیرت ہوں کہ کیا ہونا تھا اور کیا ہو گیا

 

ہم کہ پر امید تھے آئے گی صبحِ زر نگار

خیمہ زن ہو گی چمن میں ہر طرف فصلِ بہار

یک بیک آ جائے گا ہر غنچہ و گل پر نکھار

طائرانِ خوش نوا ہر سو پھریں گے نغمہ بار

 

کر گئیں مایوس لیکن وقت کی نیرنگیاں

پھرشبِ ہجراں کا منظر پھر وہی تنہائیاں

پھر وہی نالہ کشی ہے پھر وہی دل سوزیاں

پھر ستم کیشی وہی ہے پھر وہی بربادیاں

 

شب پرستوں کی مگر محفل میں ہے دورِ شراب

نغمہ و رقص اک طرف ہے اک طرف چنگ و رباب

بے نیازِ حال و مستقبل ہوا ہر شیخ و شاب

ساقی محفل کی حالت ہو گئی سب سے خراب

 

اف فریبِ نفس میں قومِ مسلماں آ گئی

روٹی کپڑے کے فقط وعدے پہ دھوکہ کھا گئی

صرف جوشیلی صدا اک ان کے دل گرما گئی

عقل اندھی ہو گئی اور آنکھ بھی پتھرا گئی

 

نیک و بد میں کر نہ پائے امتیازِ واقعی

کچھ نہ سوچا حق کدھر ہے اور کدھر ہے گمرہی

کس طرف ناموسِ دیں ہے کس طرف بے غیرتی

کس طرف اخلاصِ دل ہے کس طرف بازی گری

 

اہلِ حق تو چاہتے تھے اقتدارِ لا الٰہ

جس کی نظروں میں برابر ہیں عوام و سربراہ

جس کے دامن میں محبت جس کے دامن میں پناہ

منصفی میں جس کی یکساں ہیں فقیر و بادشاہ

 

ووٹ اہلِ حق کو دے دیتے تو کیا کچھ تھا برا

اقتدار اسلام کا آتا تو سب کا تھا بھلا

مفسدہ ہے اقتدار انسان پر انسان کا

اتنی صدیوں کا نہ کام آیا تجھے کچھ تجربہ

 

رزق کا ضامن خدا فرمودۂ قرآن ہے

اس سے بڑھ کر بھی تجھے اف وعدۂ انسان ہے

کس پہ تکیہ کر لیا ہے تو بڑا نادان ہے

غیرتِ حق کیا یہی ہے کیا یہی ایمان ہے

 

اے مسلماں سن کہ روٹی ہی ترا مقصد نہیں

کسبِ دنیا میں جگر سوزی ترا مقصد نہیں

مال و زر کی برتری کوئی ترا مقصد نہیں

عیش کوشی جہاں یعنی ترا مقصد نہیں

 

تو نے دیکھا ہی نہیں اب تک رخِ زیبائے دیں

تو نے سمجھا ہی نہیں منشائے رب العٰلمیں

دیں کو ساری زندگی میں تو نے برتا ہی نہیں

دل تک اترا ہی نہیں تیرے یہ قرآنِ مبیں

 

ٹھوکریں کھانی ہیں لکھی تیری قسمت میں ابھی

طالبِ دنیا ہے جب تک مل چکی تجھ کو خوشی

جھیلتا رہ بے کسی کی بے بسی کی زندگی

ہوش مستقبل میں آپ آ جائے گا تجھ کو کبھی

 

عالمانِ دینِ برحق ذی حشم والا تبار

سلکِ مروارید کے سب دانہ ہائے بے شمار

ان سے بھی با صد ادب اتنی ہے عرضِ خاکسار

یہ جماعت سازیاں چھوڑیں بہ عنوانِ ہزار

 

اقتدارِ دینِ محکم کا کریں بس اہتمام

تا دمِ فتح و ظفر محنت کریں وہ صبح و شام

متحد ہو کر بدل ڈالیں یہ طاغوتی نظام

تا ہو پورا مقصدِ فرمودۂ رب الانام

 

ہم بھی لوگوں کو نظرؔ بارِ دگر سمجھائیں گے

پاس ان کے جا کے ہم پیغامِ حق پہنچائیں گے

یہ جہادِ زندگی ہے اور موقع آئیں گے

اُن کے ہاتھوں ہی نظامِ حق یہاں پر لائیں گے

 

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے۔۔۔

حالیہ اشاعتیں

اشتہارات

اشتہارات