اردوئے معلیٰ

شاہِ نواب کا گدا ہونا

تاجداروں سے ہے سوا ہونا

 

عشق نواب میں فنا ہونا

ہے حقیقت سے آشنا ہونا

 

اوڑھ کر خاکِ کوچۂ نواب

چاہتے ہو جو کیا سے کیا ہونا

 

ہے فنافی الرسول کا ضامن

ہستیِ شیخ میں فنا ہونا

 

ان کی صورت کو دیکھ کر سیکھا

صبح ہستی نے پر ضیاء ہونا

 

ان کے آب کرم پہ ہے موقوف

شاخ دل کا ہرا بھرا ہونا

 

گر ہو مقصود ان کا عکس جمال

چاہئے دل کو آئینہ ہونا

 

آگیا ان کی رحمتوں کے طفیل

میرے کھوٹے کو بھی کھرا ہونا

 

پتھروں کو گلاب کرتا ہے

ان کی چشم کرم کا وا ہونا

 

وہ ہیں خیر النسا کے چشم و چراغ

جان و دل سے انہی کو چاہو نا

 

زیب دیتا ہے آپ ہی کے لیے

سیدی! شاہ اصفیاء ہونا

 

زندگی میرے دل کو بخشتا ہے

یاد نواب شاہ کا ہونا

 

اک قیامت سے کم نہیں ہے صدف

ان کی دہلیز سے جدا ہونا

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے۔۔۔

حالیہ اشاعتیں

اشتہارات

اشتہارات