اردوئے معلیٰ

شاہِ کونین کی ثنا کیجے

شاہِ کونین کی ثنا کیجے

طول رحمت کا سلسلہ کیجے

 

خانۂ دل کو طاقچہ کیجے

عشق سرکار کو دیا کیجے

 

بھیجٔے ابر التفات حضور

شاخِ بے برگ ہوں، ہرا کیجے

 

ماہ و خورشید مجھ پہ رشک کریں

یا نبی اپنی خاک پا کیجے

 

نیک نامی کی آرزو ہے تو پھر

یا نبی یانبی رٹا کیجے

 

بے کلی کو گلِ قرار ملے

باغ طیبہ کا تذکرہ کیجے

 

قلب قرطاس ہو، قلم الفت

اسمِ سرکار ، یوں لکھا کیجے

 

رکھیے ورد زباں درود شریف

ختم ہر غم کا سلسلہ کیجے

 

وہ ہے بیمارِ سید عالم

آپ اس کی نہ کچھ دوا کیجے

 

راستہ منزلوں میں بدلے گا

ان کی سیرت کو رہنما کیجے

 

یانبی ہے صدف تہی داماں

صدقۂ فاطمہ کیجے

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ