اردوئے معلیٰ

Search

شاہ دو عالم سن لیجے میری نوا میری فریاد

ہادیٔ اعظم سن لیجے رہتا ہوں میں ہر دم ناشاد

 

مجھ کو ہے طیبہ کا ارماں رہتا ہوں میں دن رات تپاں

میرے مکرم سن لیجے زندگی ہے میری برباد

 

کوئی نہیں میرا غم خوار کر دیا غم نے زار و نزار

نوح کے ہمدم سن لیجے رہتی ہے دل کو آپ کی یاد

 

آپ ہیں رحمت دو عالم کس سے کہوں میں جا کر غم

لطف مجسم سن لیجے آنکھ ہے غمگیں دل ناشاد

 

آپ ہیں داتا میں ہوں گدا پھیلا ہوا ہے ہاتھ مرا

قائم و دائم سن لیجے دیجئے مجھ کو میری مراد

 

میری نوائے نیم شبی میرا بیان درد دلی

حق کے محرم سن لیجے اور مجھے کیجے دل شاد

 

اور ہے حاصل ہر نعمت صرف ہے طیبہ کی حسرت

رحمت عالم سن لیجے تڑپے بھلا کب تک بہزادؔ

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ