شایانِ شان کچھ نہیں نعتوں کے درمیاں

شایانِ شان کچھ نہیں نعتوں کے درمیاں

اِک بے بسی سی ہے مرے حرفوں کے درمیاں

 

لکھنے لگا ہُوں بوند سمندر کے سامنے

سہما ہُوا ہے شعر بھی بحروں کے درمیاں

 

جلوہ فگن حضور، صحابہ کے بیچ میں

ہے ماہتاب جیسے ستاروں کے درمیاں

 

خالص معاملہ یہ حبیب و محب کا ہے

غلطاں ہے سوچ کیوں بھلا ہندسوں کے درمیاں

 

ساری متاعِ شعر و سخن اس لئے تو ہے

اِک حرفِ نعت اذن ہو حرفوں کے درمیاں

 

کس کس طرح سے تیرے کرم کو لکھے قلم

اک منفعل وجود ہے لہروں کے درمیاں

 

یہ زیست اور کچھ بھی نہیں، بابِ شوق میں

اِک لمحۂ فراق ہے خوابوں کے درمیاں

 

ان کی عطا و جود پہ سو جان سے فدا

میرا شمار ان کے گداؤں کے درمیاں

 

صدیوں کے ناز، نسبتِ خیرالوریٰ کے ساتھ

مقصودؔ، جی رہا ہوں میں لمحوں کے درمیاں

 

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ