اردوئے معلیٰ

شبِ تمنا کے تلخ لمحوں کی روشنی ہے

مرے نبی تیری نعت ہی میری زندگی ہے

 

مدینے جانے سے پیشتر بھی تو اِک خلا تھا

پلٹ کے آیا تو پھر سے لگتا ہے اِک کمی ہے

 

وہی تو اِک حرف با شرَف ہے جو آپ کا ہے

وہی تو اِک بات معتبر ہے جو آپ کی ہے

 

جو نازِ شمس و قمر ہیں وہ تیرے سنگ پارے

جو رشکِ کوئے جناں ہے وہ اِک تری گلی ہے

 

کچھ اس طرح ہے ثنا کے منظر میں عجزِ خامہ

سفید کاغذ پہ بے نمود ایک تشنگی ہے

 

سفر سے پہلے صدا بہ دل میرے زمزمے تھے

مدینہ ہے اور ثنا بہ لب میری خامشی ہے

 

کرم کے مابعد بھی ہیں تیرے کرم کی باتیں

طلب سے ماقبل بھی تو تیری عطا ہوئی ہے

 

ترے وسیلے کے دوش پر ہیں دُعا و گریہ

ہر ایک خواہش بھی تیری دہلیز پر رکھی ہے

 

کریم! اب تو نئے سفر کی نوید دیجے

کریم! یہ میرے خواب ہیں، میری بے بسی ہے

 

جوارِ شہرِ کرم کا مقصودؔ یوں ہے منظر

کہ جیسے حسرت یقیں کے پہلو سے آ ملی ہے

 

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے۔۔۔

حالیہ اشاعتیں

اشتہارات

اشتہارات