اردوئے معلیٰ

شبِ سخن کو طلعتوں کے طاقچے عطا ہُوئے

حروف کو جو مدحتوں کے قمقمے عطا ہُوئے

 

بہشتِ شوق بن گئیں سفر کی ساری منزلیں

مدینہ رو کو رحمتوں کے راستے عطا ہُوئے

 

پھر اس کے بعد آنکھ کا نہیں جلا چراغِ شب

میانِ دید حیرتوں کے سلسلے عطا ہُوئے

 

عجیب دلنواز تھی وہ وصلِ نُور کی گھڑی

کہ ہجر کو بھی قُربتوں کے ذائقے عطا ہُوئے

 

جوارِ شہرِ نُور میں بھی انتہا کا کیف تھا

کہ دشت میں بھی نکہتوں کے معجزے عطا ہُوئے

 

رگِ حیات میں تھا ارتعاشِ نعت سر بسر

نقیبِ دل کو چاہتوں کے زمزمے عطا ہُوئے

 

یہ سب مدینے والے کے کرم کی ہیں لطافتیں

جبیں پہ جتنے قسمتوں کے حاشیے عطا ہُوئے

 

لرز رہا تھا لغزشوں کے جو مہیب خواب میں

اُسے بھی تیری شفقتوں کے حوصلے عطا ہُوئے

 

مَیں بے ہُنر ضرور ہُوں مگر نہیں ہُوں کم طلب

کہ تجھ کو ساری قدرتوں کے زاویے عطا ہُوئے

 

عروض کی گلی میں زیرِ پا تھی شعر کی زمیں

کرم ہُوا کہ نُدرتوں کے قافیے عطا ہُوئے

 

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے۔۔۔

حالیہ اشاعتیں

اشتہارات

اشتہارات