اردوئے معلیٰ

Search

شب وعدہ ہے تو ہے اور میں ہوں

ہجوم آرزو ہے اور میں ہوں

 

دل بیگانہ خو ہے اور میں ہوں

بغل میں اک عدو ہے اور میں ہوں

 

مٹاتا ہی رہا جس کو مقدر

وہ میری آرزو ہے اور میں ہوں

 

پریشاں خاطری کہتی ہے اپنی

کسی کی جستجو ہے اور میں ہوں

 

شب تنہائی فرقت میں دل سے

کچھ اس کی گفتگو ہے اور میں ہوں

 

گلستاں جہاں ہے قابل سیر

طلسم رنگ و بو ہے اور میں ہوں

 

نگاہ لطف دلبر کا ہے اظہار

پھٹے دل کا رفو ہے اور میں ہوں

 

کہیں چھوڑا اگر قاتل کا دامن

تو پھر میرا لہو ہے اور میں ہوں

 

جلالؔ اس کو بنایا اس نے دشمن

قیامت میں عدو ہے اور میں ہوں

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ