شعرِ عقیدتِ نبی خوب عطا ہوا مجھے

شعرِ عقیدتِ نبی خوب عطا ہوا مجھے

شکر، ہزار شکرِ رب، رزقِ ثنا ملا مجھے

 

عشقِ مجاز کا طلسم، جلد ہی محو ہو گیا

شوقِ نوشتِ نعت نے ایسا مزہ دیا مجھے

 

صرف مُطاع ہیں نبی ان کے سوا کوئی نہیں

راہِ عمل میں چاہیے آپ کا نقشِ پا مجھے

 

حُبِّ نبی نے کھول دی راہِ نعوت کلک پر

ذکرِ نبی نے کر دیا، درد سے آشنا مجھے

 

شوکتِ سنجر و سلیم، جچتی نہیں نگاہ میں

عشقِ بلالؓ دے گیا ایسا اک آئینہ مجھے

 

بے عملی کا ہے مرض، اس سے نجات کے لیے

پیرویِ رسول کی دیدے کوئی دوا مجھے

 

دعویٔ عشق کا فقط ایک عِیار ہے، عمل

طرزِ صحابۂؓ نبی درس یہ دے گیا مجھے

 

جذبۂ خندق و حنین کاش نصیب ہو سکے

طولِ اَمل کے درد سے چاہیے اب شِفا مجھے

 

نغمۂ عشقِ مصطفیٰ اپنی جگہ عزیزِؔ من

بے عملی بنا گئی، شیر بساط کا مجھے

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے

متعلقہ اشاعتیں

گھل جاتی ہیں جب ساغرِ وجدان میں نعتیں
دلا خاک رہ کوئے محمد شو محمد شو
شہرِ طیبہ کی ٹھنڈی ہوا چاہئے
اُن كی سیرت سراپا اثر ہو گئی
ہو کرم کی نظر اس گنہگار پر ، ہا تھ باندھے کھڑا ہے یہ در پر شہا
بڑھ گیا حدِ جنوں سے نام لیوا آپ کا
منزل کا رہنما ہے نشاں راستی کا ہے
ہوش و خرد سے کام لیا ہے
دھڑک رہا ہے محمدؐ ہمارے سینے میں
سنا ہے شب میں فرشتے اُتر کے دیکھتے ہیں

اشتہارات