اردوئے معلیٰ

شعرِ عقیدتِ نبی خوب عطا ہوا مجھے

شکر، ہزار شکرِ رب، رزقِ ثنا ملا مجھے

 

عشقِ مجاز کا طلسم، جلد ہی محو ہو گیا

شوقِ نوشتِ نعت نے ایسا مزہ دیا مجھے

 

صرف مُطاع ہیں نبی ان کے سوا کوئی نہیں

راہِ عمل میں چاہیے آپ کا نقشِ پا مجھے

 

حُبِّ نبی نے کھول دی راہِ نعوت کلک پر

ذکرِ نبی نے کر دیا، درد سے آشنا مجھے

 

شوکتِ سنجر و سلیم، جچتی نہیں نگاہ میں

عشقِ بلالؓ دے گیا ایسا اک آئینہ مجھے

 

بے عملی کا ہے مرض، اس سے نجات کے لیے

پیرویِ رسول کی دیدے کوئی دوا مجھے

 

دعویٔ عشق کا فقط ایک عِیار ہے، عمل

طرزِ صحابۂؓ نبی درس یہ دے گیا مجھے

 

جذبۂ خندق و حنین کاش نصیب ہو سکے

طولِ اَمل کے درد سے چاہیے اب شِفا مجھے

 

نغمۂ عشقِ مصطفیٰ اپنی جگہ عزیزِؔ من

بے عملی بنا گئی، شیر بساط کا مجھے

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے۔۔۔

حالیہ اشاعتیں

اشتہارات

اشتہارات