اردوئے معلیٰ

شعر و سخن کا ذوق ودیعت ہوا مجھے

 

شعر و سخن کا ذوق ودیعت ہوا مجھے

نعتِ نبی کے شوق نے اپنا لیا مجھے

 

شکرِ خدا ملا وہ رسولِ خدا مجھے

لگتا ہے دوجہاں میں جو سب سے بھلا مجھے

 

مشکِ ختن خطا کی نہ خوشبو سنگھا مجھے

لا دے صبا وہ نکہتِ زلفِ دوتا مجھے

 

سب مانگ لوں میں یاد ہے جتنی دعا مجھے

مل جائے قربِ روضۂ اطہر ذرا مجھے

 

پھر تاجِ قیصری سے سروکار کیا مجھے

مل جائے گر حضور کی نعلینِ پا مجھے

 

اپنے کرم کی بھیک مرے ساقیا مجھے

کوثر کا ایک جام لبالب بھرا مجھے

 

برپا ہے روزِ حشر، بہت ڈر لگا مجھے

دامن میں اپنے آپ چھپا لیں شہا مجھے

 

پہنچا ہوں روضۂ نبوی میں ہزار بار

مرغِ خیال لے کے گیا مرحبا مجھے

 

اٹھوں نہ ان کے در سے اٹھانے کے باوجود

اس بات پر بھلے ہی کہیں سب برا مجھے

 

صد شکر جا رہا ہوں دیارِ حبیب میں

اب واپسی کا دھیان لگے بے تکا مجھے

 

اعمالِ صالحہ پہ نہیں تکیۂ نجات

اس رحمتِ تمام کا ہے آسرا مجھے

 

امکاں غلط روی کا مری اے نظرؔ نہیں

ہے رہنمائے منزلِ حق نقشِ پا مجھے

 

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ