شعلۂ خورشید

سنولوگو!
سنو اک داستاں جس میں
تمہارے خواب
بے اندازہ روشن، خوبصورت
زندگی آمیز
یعنی
جاوداں سب آروزوؤں کے
گل و گلزار
اپنی چھب دکھاتے ہیں
تمہیں آسودگی کے باغ میں
موسم بلاتے ہیں
تمہاری داستاں تم کو سناتے ہیں
تمہیں میں چند ایسے لوگ تھے
جن کی
رگوں میں
خون سچا تھاکہ ان میں مفلس و نادار بھی
طاقت میں اس سے کم نہیں تھا
جو وہاں پر حکمرانی کے لیے لایا گیا تھا
کہ ان پر جو بھی کرتا تھا حکومت
وہ ہمیشہ خود کو
ان لوگوں کا خادم ہی سمجھتا تھا
کہ جن پر اس کو سرداری کا منصب
حق نے بخشا تھا!
کبھی دیہات سے اُٹھ کرمدینے
آنے والا شخص
کہتا تھا ’’عمر‘‘ ! ہم تیر اخطبہ سن نہیں سکتے
ہمیں پہلے بتا جو
تونے اک لمبا سا کرتہ
زیبِ تن اپنے کیا ہے
اس کا کپڑا اس قدر ہرگز نہیں تھا
جس سے تیرا جسم ڈھک جاتا
بتا تونے خیانت تو نہیں کی ہے ؟
کہ جو مالِ غنیمت سے یہاں کپڑا ملا تھاوہ تو ناکافی تھا
تیرے جسم پر پورا جو آجاتا
وہ کرتہ بن نہیں سکتا تھا اس میں
عمرؓ بولے
ذرا میرے پسر سے پوچھ لو
کیا ہے حقیقت میرے کرتے کی
پسربولے کہ میں نے اپنا حصہ
اپنے والد کو دیا تھا
تاکہ ان کا ایک کرتہ تو مکمل بن سکے اس میں
حقیقت صرف اتنی ہے !
وہ دیہاتی اُٹھا اور اُٹھ کے اس نے
بات سننے کے لیے حاضر کیا خود کو
کہا اب تم کہو ہم سے کہ جو کچھ تم کو کہنا ہے
عمرؓ جو نصف دنیا پر حکومت کررہے تھے
ان کی یہ کیسی حکایت ہے!
مگر منظر بدلنے پر
چڑھا سولی پہ وہ جس نے
کبھی جرأ ت ذرا سی کیکہ اپنے حکمراں سے پوچھ لے
دولت کے یہ انبار
تیرے قصر میں کیسے لگے آخر ؟
وہ سلطاں مطمئن تھا ایک گستاخ آج میں نے قتل کرڈالا
مگر سو چانہ تھا اس نے
کہ سچائی کے دیوانے سدا جیتے ہیں دنیا میں
گزر جاتا ہے جو اک شخص،وہ تنہا نہیں رہتا
پھر اک ہمزاد اس کا
سر اُٹھائے…عرصۂ گیتی میں آموجود ہوتا ہے
کہ جس میں جرأ تِ گفتار ہوتی ہے
فرازؔ اس کی حقیقت سے اُٹھادیتا ہے پردہ
جب وہ کہتا ہے
’’کرن جو قتل ہوتی ہے
وہی خورشید کے شعلے میں
ڈھلتی ہے‘‘

(شب کے سفاک خدواؤں کو خبر ہو کہ نہ ہو۔جو کرن قتل ہوئی شعلۂ خورشید بنی…احمد فرازؔ،
صفحہ 652 …شہر سخن آراستہ ہے)… ۲۱؍صفر۱۴۳۸ھ …مطابق: ۲۲؍نومبر ۲۰۱۶ء
یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email
لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے

متعلقہ اشاعتیں

خدایا آرزو میری یہی ہے
عالمِ انسانیت کو کاش مل جائے شعور
نبی ﷺ پہ کتنا کرم رَبِّ ذوالجلال کا ہے
پہلے کردار کی جلا کیجے
چمک جب تک رہی اعمال میں اُس پاک سیرت ﷺ کی
میں اس تصور میں محو ہو کر ترانۂ شوق گا رہا ہوں
کہا یہ مجھ سے کچھ عرفاں پناہ لوگوں نے
ازل سے خلق میں پہلا جو نقش ﷺ روشن ہے
ضمیر کی قید میں
اَلْعَظْمَۃُ لِلّٰہ !