اردوئے معلیٰ

شفیع الوریٰ کو درودوں کا عطیہ​

شہِ دو سرا کو سلاموں کا ہدیہ​

 

ہمارے لیے مکہ چھوڑا انھوں نے​

چلے بستی بستی ، پھرے قریہ قریہ​

 

حبیبِ خدا ، محسنِ کل جہاں ہیں​

وہ دن کی مشقّت ، وہ راتوں کا گریہ​

 

چمکتا تھا چہرہ قمر سے زیادہ​

بھویں ان کی لمبی ، گھنی اُن کی لِحیہ​

 

جہاں ہم کو پہنچایا کردار اُن کا​

نہ بھولے ہیں راوی محمد کا حلیہ​

 

”محمد پہ قربان جاؤں سدا میں“​

ہو وردِ زبانِ دل و جاں یہ قضیہ​

 

عمل پاس کچھ بھی نہیں ہے ہمارے​

اگر ہے تو اُن کی شفاعت کا تکیہ​

 

ہے یہ سَرسَرؔی نعت ، لیکن الہٰی

بنادے اسامہ کی بخشش کا فدیہ

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے۔۔۔

حالیہ اشاعتیں

اشتہارات

اشتہارات