اردوئے معلیٰ

Search

 

شفیع الوری یا شفیع الوری

مجھے بخشوا یا شفیع الوری

 

کروں کس سے فریاد اے ادا رس

تمہارے سوا یا شفیع الوری

 

کہاں جائے اے شاہ در سے ترے

ترا یہ گدا یا شفیع الوری

 

تمہیں بخشوا لو گے اللہ سے

مری ہر خطا یا شفیع الوری

 

سہارا ہے ہر دو سرا میں ترا

نہیں دوسرا یا شفیع الوری

 

مجھے بھول جانا نہ بہرِ خدا

بروزِ جزا یا شفیع الوری

 

جہنم سے مجھ کو بچا لیجیو

برائے خدا یا شفیع الوریٰ

 

مدینہ میں مولیٰ یہ جا کر مرے

یہ ہے التجا یا شفیع الوریٰ

 

مری گور میں بھی مدد کیجیو

مرے مصطفےٰ یا شفیع الوریٰ

 

مرا مُدا تم کو معلوم ہے

کروں عرض کیا یا شفیع الوریٰ

 

یہ دل کی تمنا ہے مولیٰ مرے

یہ ہے التجا یا شفیع الوریٰ

 

یہی آرزو ہے یہی ہے ہوس

مدیح خدا یا شفیع الوریٰ

 

رہا زیست میں جس طرح ذوق شوق

تری نعت کا یا شفیع الوریٰ

 

رہے بعد مُردن یونہی خُلد میں

ہمیشہ سَدا یا شفیع الوریٰ

 

خدا خود ہے مداح قرآن میں

ترا جا بجا یا شفیع الوریٰ

 

بشر کیا فرشتوں سے لکھی نہ جائے

تمہاری ثنا یا شفیع الوریٰ

 

بلالے مدینے میں اب لطف کو

نہ در در پھرا یا شفیع الوریٰ

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ